جمعیت اہلحدیث امن کی وکیل،خون خرابہ اور ماردھاڑ کی مذمت مدارس،مساجد اور مالی وسائل پر گورنر کے بیان کیخلاف تنظیم کا شدید رد عمل

سرینگر// کچھ روز پہلے چند اخبارات میںشائع شدہ ریاست جموںوکشمیر کے گورنر کے اس بیان جو اُنہوں نے جمعیت اہلحدیث کے مدارس و مساجد اور مالی وسائل وغیرہ کے بارے میں دیا ،گورنر کے اس بیان پر جمعیت اہل حدیث حیرانگی وشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے اور اس کو ذہنی اختراع اور سنی سنائی کہانی کا شاخسانہ قرار دیتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ جمعیت ہمیشہ امن کی قائل رہی ہے اورکسی بھی غیر قانونی کاموں میںملوث نہیں رہی ہے البتہ اس نے ہمیشہ خون خرابہ مار دھاڈ قتل وغارتگری کی مذمت کی ہے اور واشگاف الفاظ میںاعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف سہ فریقی بات چیت میںہے ۔ جمعیت کا منہج قرآن وسنت ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہوگی نہ ہی کسی دھونس ودبائو کبھی قبول کرے گی۔ان خیالات کا اظہار جمعیت اہلحدیث کے صدر پروفیسر غلا م محمد بٹ المدنی نے ایک اعلیٰ سطحی تنظیمی میٹنگ کے دوران کیا۔بیان کے مطابق ناظم اعلیٰ جمعیت اہلحدیث ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے کہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر برسہا برس سے مختلف قوتوں کے بیچ وجہ نزاع بنی ہوئی ہے اور اس سلسلے میںاقوام متحدہ سے لے کر شملہ تک اور دلی سے لے کر اسلام آباد تک سینکڑوں نشستیں ، ہزار ہا ریلیاں یہاں تک کہ تین جنگوں تک کی نوبت آچکی ہے اور یہ خطہ ہمیشہ آگ وآہن اور بارود کی زد میںرہا ہے اور ہر طرف سے اس مسئلے سے جڑے طبقات کے بیچ بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کیلئے آوازیں اُٹھتی ر ہیں اور جمعیت اہل حدیث بھی اسی کی متمنی ہے کہ برصغیر امن وسکون کاگہوارہ بن جائے اور یہاں کے لوگ تعلیم ، معیشت اور صحت جیسی بنیادی ضروریات پر توجہ مرکوز کرسکیں ،مگر بدقسمتی سے اصل معاملات کو ایڈریس کرنے کی بجائے دھونس دبائو کی پالیسی اپنائی گئی اور الزام تراشیوں ، بدگمانیوں کو بنیاد بنا کر جنت جہنم کے مسلمہ عقائد کو اپنے تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مساجد ومدارس کے تقدس کو پامال کرکے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی منصوبہ بند سازشیںکی جاتی ہیں ،جس کی جمعیت اہلحدیث بھر پور مذمت کرتے ہوئے، اصل حقیقت پر دھیان دینے کا مشورہ دیتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں