محرم الحرام میں امن و اتحاد برقرار رکھنے کا عزم

محرم الحرام کے سلسلے میں میں نکالے جانے والے ماتمی جلسوں اور جلسوسوں کے دوران امن و اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے شعیہ سنی کارڈینیشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس مہینے کے دوران ہر قیمت پر امن و اتحاد قایم رکھا جائے گااور ایسے عناصر کے ہتھکنڈوں کونا کام بنایا جائے گا جو اس مہینے کسی نہ کسی طرح فساد بپا کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر ضلع انتظامیہ نے بھی شعیہ آبادی والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ ماتمی جلسے جلوسوں کو ہر صورت میں بر آمد ہونے کی اجازت دی جائے گی اور کسی کو بھی ان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ویسے بھی کشمیری عوام کا اتحاد مثالی ہے کیونکہ لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ہر صورت میں شعیہ سنی اتحاد کو برقرار رکھنا ہے اور ان کو یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ وہ محرم الحرام کے دوران آپسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر امن و اتحاد برقرار رکھیں ۔ جیسا کہ گذشتہ برسوں دیکھا گیا ہے کہ بعض مٹھی بھر لوگ جن کی تعداد بہت کم ہوتی ہے کسی نہ کسی بہانے ان ایام میں لڑائی جھگڑے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس طرح گذشتہ برسوں میں ان کو ناکام بنایا گیا اس برس بھی کشمیری عوام نے ہر قیمت پر امن واتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جب اختلافات کی کوئی گنجایش ہی نہیں ہے تو پھر کیونکہ خوامخواہ بدامنی پیدا کی جائے۔ کشمیری عوام نے کبھی بھی امن و اتحاد کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا محرم الحرام میں شعیہ آبادی والے علاقوں میں عز اداروں کیلئے ہر طرح کے معقول انتظامات کئے جانے چاہئیں تاکہ ماتمی جلسے جلوسوں کے دوران لوگوں کو بھر پور آسایشیں فراہم ہوسکیں۔ صوبائی انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ اُن علاقوں کی طرف خاص توجہ دی جائے گی جہاں سے عزاداری کے جلوس نکالے جاتے ہیں ان علاقوں میں سڑکوں اور گلی کوچوں کی حالت بہتر بنائی جانی چاہئے اس کے علاوہ سٹریٹ لائیٹس کا معقول انتظام کیاجانا چاہئے۔ عزاداروں کیلئے چونکہ چائے پانی کا انتظام رضاکارانہ طور پر کیا جاتا ہے اسلئے چاول، کھانڈ، مٹی کا تیل اور بالن کا بھی معقول انتظام کیاجانا چاہئے ۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس بات کا یقین دلایا گیا شعیہ آبادی والے علاقوں میں لوگوں کو چاول کھانڈ اور آٹے کی بھر پور اضافی مقدار فراہم کی جائے گی لیکن بہت سے علاقوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ان علاقوں میں لوگوں کو کسی بھی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ نتیجے کے طور پر لوگوں کو متذکرہ بالا اشیا بازاروں سے اونچے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے ساتھ ساتھ صوبائی انتظامیہ کو پوری وادی میں ان ایام کے دوران خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے امن و امان کی برقراری کو ترجیح دی جانی چاہئے تاکہ شر پسند عناصر کو اپنے ہتھکنڈے آزمانے کا موقعہ نہ مل سکے ۔ کشمیری عوام امن و اتحاد اور آپسی بھائی چارے کے حامی ہیں اور سب لوگ بلالحاظ مسلک چاہتے ہیں کہ اس مہینے جہاں عزاداروں کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں وہیں پر ایسے عناصر کی سرکوبی ضروری ہے جو دنگا فساد بھڑکانے کی کوششوں کے مرتکب ہونگے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں