پی ڈی پی اور بھاجپا میں آج بھی ملی بھگت:عمر عبداللہ، 35Aکی تفصیلی رپورٹ ایک سال سے سپریم کورٹ میں داخل نہیں کرائی گئی

سرینگر//پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان آج بھی ملی بھگت کا انکشاف کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آج تک 35Aسے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے اور 60صفحات پر مشتمل مذکورہ تفصیلی رپورٹ آج بھی سول سکریٹریٹ میں لائ سکریٹری کے میز پر ایک سال سے پڑی ہوئی ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 35Aکے خاتمے کیلئے قلم دوات جماعت اور بی جے پی میں برابر اشتراک تھا اور پی ڈی پی والے باہری دنیا کو زبانی جمع خرچ سے گمراہ کررہے تھے جبکہ عملی طور پر اس قانون کے دفاع کیلئے برائے نام اقدامات اُٹھائے جارہے تھے۔ پی ڈی پی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس تفصیلی جواب کو سپریم کورٹ میں داخل کرتے لیکن ان کو کرسی پیاری تھی اور اس جماعت کے خودساختہ لیڈران بھاجپا کو ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج حلقہ انتخاب چاڈورہ کے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر، ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی ، وسطی زون صدر علی محمد ڈار﴿ایم ایل سی﴾ ، پارٹی لیڈران تنویر صادق اور منظور احمد وانی بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ محبوبہ مفتی آج مگر مچھ کے آنسو بہاتی پھر رہی ہے اور کہتی ہیں کہ بھاجپا نے انہیں 3سال زہر پلایا، اگر واقعی آپ کو بھاجپا زہر پلا رہی تھی تو آپ نے کرسی کیوں نہیں چھوڑی؟ آپ سے تو کرسی چھینی گئی۔محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ بھاجپا این آئی اے اور سی بی آئی کے ذریعے اُن کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کررہی ہے، اگر واقعی یہ حقیقت ہے تو خدارا بتائے آپ کے ممبران نے آج راجیہ سبھا میں بی جے پی کیخلاف ووٹ کیوں نہیں ڈالا؟اور غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی درپردہ مدد کیوں کی؟سچ تو یہی ہے کہ آپ کی آج بھی بھاجپا کیساتھ ملی بھگت ہے نہیں تو آپ نے ہماری طرح سپریم کورٹ میں جاکر 35Aکے دفاع کیلئے وکیل کیا ہوتا یا پھر آپ کی جماعت کے قابل وکیل دفاع کیلئے آگے آگئے ہوتے۔جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کیخلاف ہورہی سازشوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا۔
کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہم کافی عرصے سے ایسی سازشوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں، جن کے ذریعے نیشنل کانفرنس کو اس سرزمین سے ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں،مختلف اوقات میں ان سازشوں کے الگ الگ طریقے تھے،بالکل آج ہی کے دن 1953میں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو غیر قانونی ، غیر جمہوری اور غیر آئینی طور گرفتار کیا گیا، سازشوں کا سلسلہ تب سے لیکر آج تک جاری ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں