ڈرون کی فراہمی میں تاخیر سے فوج کی فضائی نگرانی متاثر

نئی دہلی، 8 اگست ﴿یو این آئی﴾ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ﴿سی اے جی﴾ نے ملک کے بڑے دفاعی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ﴿ڈی آر ڈی او﴾ کی جانب سے بے پائیلٹ طیارے ﴿ڈرون﴾ کی فراہمی میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 1000 کروڑ روپے سے زائدرقم خرچ ہونے کے باوجود فوج کو ڈرون نہ ملنے سے اس کی فضائی نگرانی صلاحیت متاثر ہوئی ہے ۔سی اے جی نے پارلیمنٹ میں پیش رپورٹ میں کہا ہے کہ فوج کی فضائی نگرانی صلاحیت بڑھانے کے لئے ڈی آر ڈی او کو ڈرون تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان ڈرونو ں کو مارچ 1995 تک بنایا جانا تھا لیکن کام پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی متعینہ مدت میں پانچ مرتبہ اضافہ ہواہے ۔آخر کار 2002 میں ڈرون کا ٹیسٹ کیاگیا جو کامیاب نہیں رہا۔ اس کے بعد جولائی 2003 میں ان کا دوبارہ تجربہ کیا گیا اور اس وقت زیادہ سے زیادہ رفتار، صلاحیت اور مقصد سے متعلق کچھ تکنیکی پیرامیٹرز میں رعایت دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2005 میں 234 کروڑ روپے کے صرفے سے 12 ڈرون کی فراہمی کا آرڈر دیا گیا۔ فوج کو 2013 میں چار ڈرون کی فراہمی کی گئی لیکن یہ چاروں تین سال کے وقفے میں گر کر تباہ ہو گئے ۔اس کے علاوہ فروری 2011 میں ڈی آر ڈی او کو 1540 کروڑ روپے کے صرفے سے تینوں فوجوں کے لئے 76 ڈرون تیار کرنے کو کہا گیا۔ یہ اسکیم بھی اپنے مقررہ وقت اگست 2016 میں پوری نہیں ہوئی۔ مئی 2016 تک اس کے لئے 1017 کروڑ روپے کی رقم ادا کی گئی۔ اب اس اسکیم کا 2019 میں مکمل ہونے کا امکان ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کی بروقت تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ ہونے کے باوجود فوج کو ڈرون نہیں ملے اور اس کی فضائی نگرانی صلاحیت متاثر ہوئی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں