کشمیریوں کو اپنے پیاروں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کیاجارہا ہے:یٰسین ملک، پُر اسرار دھماکے میں بچوں کے زخمی اور ہلاک ہونے پر دکھ کااظہار کیا

سرینگر/پولیس نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی حراستی ریمانڈ کو 13جولائی2018ئ تک بڑھا دیا ہے۔ یاسین ملک جو تحریک حریت کے عمر عادل ڈار کے ہمراہ تھانہ کو ٹھی باغ میں مقید ہیں کو6جولائی2018ئ کو اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ پولیس کی حراست میںہی ہیں ۔ لبریشن فرنٹ کے ایک ترجمان نے فرنٹ چیئرمین کی گرفتاری کو طول بخشنے کی پولیس کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی قائدین اور کارکنان کو قید کرنا اور انہیں اپنی سیاسی کاوشوں کو انجام دینے سے روکنا ہر لحاظ سے غیر جمہوری اور جا برانہ طرز عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے ممیندر شوپیان میں ایک پُراسرار دھماکے کے نتیجے میں ایک اور کشمیری بچے کے شہید ہوجانے پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کو اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا نے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اور اس کی کی بنیادی وجہ کشمیر پر بھارت کا فوجی قبضہ ہے جو ہر لحاظ سے کشمیریوں کو شکار بنانے میں مصروف کار ہے۔ یاسین صاحب نے کہا کہ ابھی کل شہید ہوجانے والوں کا غم تازہ ہی ہے کہ نئی آفت نے ہمیں ایک اور بچہ کی لاش سونپ دی ہے جبکہ آدھ درجن کے قریب لوگ زخمی ہو کرموت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ یاسین ملک نے شہید ہوجانے والے بچے کی جنت نشینی کے لئے دعا کرتے ہوئے اس مذموم واقعے میں زخمی ہوجانے والوں کی فوری اور مکمل صحت یابی کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں