عازمین حج کیلئے معقول انتظامات

 اس سال عازمین حج کی روانگی کا پروگرام مشتہر کیا گیا ہے اور دوران حج انتظامات کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے جایزہ لیا۔ گورنر کے مشیر کو بتایا گیا کہ روزانہ چار فلائیٹس کا انتظام کیا گیا ہے اور عازمین حج کا پہلا قافلہ 14جولائی سے روانہ ہوگااور یہ سلسلہ 25جولائی تک جاری رہے گا۔ اس سال ریاست سے 10183عازمین حج زیارت بیت اللہ پر جارہے ہیں جن کی رہنمائی کیلئے پچاس خدام کو بھی بھیجا جارہا ہے تاکہ وہاں وہ کشمیری عازمین کی صحیح طریقے پررہنمائی کرسکیں تاکہ ان کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گورنر کے مشیر کو حج کمیٹی کے ایکزیکٹو افسر نے بتایا کہ عازمین حج کی روانگی کیلئے معقول انتظامات کئے گئے ہیں اور سرینگر کے حج ہائوس سے ائیر پورٹ تک عازمین کو لے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے بھی مناسب انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ عازمین اور خاص طور پر بزرگوں اور خواتین عازمین کو کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف نہ پہنچ سکے۔ گورنر کے مشیر کو بتایا گیا کہ حج کمیٹی کی طرف سے اس سال گذشتہ برس کے مقابلے میں بہتر انتظامات کئے گئے ہیں۔ جہاں تک گذشتہ برسوں کا تعلق ہے تو یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جو عازمین حج ،حج ہائوس بمنہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت وہاں ٹریفک جام کی بنا پر بہت سے عازمین بڑی مشکل سے حج ہائوس پہنچ پاتے ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ عازمین حج کے ساتھ جو لوگ ہوتے ہیں جن میں رشتہ دار دوست و احباب شامل ہیں کو کسی بھی صورت میں حج ہائوس کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تاکہ بائی پاس پر کوئی بھی ٹریفک جام نہ ہونے پائے۔ اس کے ساتھ ہی حج ہائوس میں ملازمین کی تعداد بڑھائی جانی چاہئے تاکہ عازمین حج کو لازمی معلومات حاصل کرنے کیلئے ادھر ادھر بھٹکنا نہ پڑے۔ غرض عازمین کی رہنمائی کا بھر پور انتظام ہونا چاہئے اس کے بعد جب وہ مدینہ منورہ پہنچ جاتے ہیں تو وہاں خاص طور پر کشمیری حاجی صاحبان کو طرح طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں ان کا ازالہ کرنے کیلئے جو خدام مقرر کئے گئے ہیں ان پر یہ بات واضح کردینی چاہئے کہ وہ کسی بھی صورت میں کشمیری عازمین کی رہنمائی کے عمل سے غفلت شعاری نہ بر تیں کیونکہ گذشتہ کئی برسوں سے یہ سننے میں آیا ہے کہ جن لوگوں کو کشمیری عازمین حج کے ساتھ بحیثیت خدام بھیجا جاتا رہاہے وہ کبھی کبھار ہی اپنا منہ ان کو دکھاتے تھے اور عازمین حج کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھاکہ ان کی رہنمائی کیلئے ان کے ساتھ کون لوگ ہیں اس سال ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ ابھی وقت ہے خدام کو اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگا ہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عازمین حج کسی بھی مشکل میں نہ پڑ سکیں۔ اس کے بعد ایام حج کے دوران بھی اُن کو بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے جن کو دور کرنے کیلئے خدام کو ہر وقت تیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ برس کشمیری حاجی صاحبان نے یہ شکایت کی کہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں ان کیلئے رہایش کے معقول انتظامات نہیں کئے گئے تھے لیکن اس سال ایسانہیں ہونا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ تین یا چار عازمین حج کو ایک ایک کمرے میں رکھا جانا چاہئے تاکہ ان کیلئے ایام حج آسانی سے گذر سکیں۔ ان اہم مسایل کی طرف ریاستی حج کمیٹی کو پورا پورا دھیان دینا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں