سابق ممبران پارلیمنٹ کو تاحیات پنشن کیخلاف عرضی پر فیصلہ محفوظ

نئی دہلی/ 7مارچ ﴿یو این آئی﴾ سپریم کورٹ نے سابق ممبران پارلیمنٹ کو تاحیات پنشن دینے کے خلاف غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی عرضی پر آج اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عرضی گذار نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ بیاسی فیصد ممبران پارلیمنٹ کروڑ پتی ہیں اس لئے انہیں پنشن کی ضرورت نہیں ہے ۔ عدالت عظمی نے عرضی گذار اور مرکز ی حکومت کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ حکومت کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے حالانکہ سابق ممبران پارلیمنٹ کو تاحیاب پنشن دے ئے جانے کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سابق ممبران پارلیمنٹ کا وقار برقرار رکھنا چاہئے ۔ سابق ممبران پارلیمنٹ کو اپنے انتخابی حلقوں کا دورہ کرنا بھی پڑتا ہے ۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا کہ عدالت پالیسی امور پر فیصلہ دے ۔ خیال رہے کہ سابق ممبران پارلیمنٹ کو تاحیات پنشن دینے کے معاملے میں عدالت نے مرکزی حکومت ، الیکشن کمیشن اور لوک سبھا راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا۔ لوک پرہری نے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ اور بھتوں کے لئے ایک مستقل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں