پہنوشوپیاں کا واقعہ ،عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں

پہنو شوپیان میں 4فروری کو جو سانحہ رونماہوا اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ جب کسی بھی جگہ اس طرح کی وارداتوں میں کسی شہری کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کا لازمی طور پر ردعمل مثبت نہیں ہوتا ہے اور لوگوں کا اس پر اظہار افسوس قدرتی امر ہے ۔ حتی کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اپنے ٹویٹ میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کی موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ا سی طرح شوپیان کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کے معاملے میں فورسز نے اس سے قبل پیش آئے ہوئے واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد حالات خراب ہوتے ہیں جس کا براہ راست اثر عام زندگی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے اس کی جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پہنو شوپیان کے واقعے پر مقامی لوگوں اور دفاعی ترجمان کے بیانا ت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جب 4فروری اتوار کی شام کو یہ واقعہ رونمائ ہوا تو دفاعی ترجمان نے بتایا کہ ایک گاڑی میں سوار جب جنگجو کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو اس نے فورسز پر گولیاں چلائیں اور جوابی فائیرنگ میں اسے ہلاک کردیا گیا۔ اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد دفاعی ترجمان نے بتایا کہ جنگجو کو ہلاک کرنے کے بعد جب اس گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں تین نوجوانوں کی لاشیں بر آمد ہوئیں جن کے بارے میں دفاعی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ وہ اپر گراونڈ ورکر تھے لیکن مقامی لوگوں نے فوجی ترجمان کے اس بیان کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ جنگجو نوجوان کو ہلاک کرنے کے بعد فورسز نے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس سے تین عام شہری ہلاک ہوگئے۔ جن کی لاشیں دیر تک وہیں پڑی رہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اس سے قبل جب بھی فورسز کی طرف سے عام شہریوں کو مارا جاتا رہا تو اس وقت بھی ان کو یا تو جنگجو یا اپر گراونڈ ورکر قرار دیا جاتا رہا۔ پہنو شوپیاں کا واقعہ بھی انتہائی دلدوز ہے۔ لواحقین کو کس طرح انصاف دلایا جاسکتا ہے اس بارے میں سرکار کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ گذشتہ مہینے جب یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی تو اس میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے فوجی افسروں پر زور دیا کہ لااینڈ آرڈر کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران صبر و تحمل سے کا م لیں تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جاسکے لیکن افسوس کا مقام ہے شوپیان میں پہنو کے مقام پر پھر شہری ہلاکتیں ہوئیں اور فوج نے حسب سابق ان ہلاکتوں کو حق بجانب قرار دینے کیلئے ان شہریوں کو اپر گراونڈ ورکر قرار دے کر اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہنو شوپیان کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔ اس معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو ہر حال میں پورا کیاجائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں