فرضی انکاؤنٹر معاملے میں سات پولیس اہلکاروں کی سزا برقرار، 11بری

نئی دہلی/ 6فروری ﴿یو این آئی﴾ دہلی ہائی کورٹ نے غازی آباد میں ایم بی اے کے طالب علم کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں اتراکھنڈ پولس کے سات اہلکاروں کی سزا برقرار رکھی جبکہ 11دیگر کو بری کر دیا۔ یہ معاملہ تین جولائی 2009کا ہے ۔ غازی آباد کے رہنے والے 22سالہ ایم بی اے کے طالب علم رنبیر سنگھ کو اتراکھنڈ پولس نے فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا تھا۔ اس سے پہلے مرکزی تفتیشی بیورو ﴿سی بی آئی﴾ کی خصوصی عدالت نے اس معاملے میں 18پولیس اہلکاروں کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔ ان میں سے 17پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی جبکہ ایک کو دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والے ملزم پولس اہلکاروں کی دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سات پولس اہلکاروں کی سزا برقرار رکھی جبکہ 11دیگر کو بری کر دیا۔ جن چھ پولس اہلکاروں کی سزا برقرار رکھی گئی ہے ان میں چھ سب انسپکٹر شامل ہیں۔ سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج جے پی ایس ملک نے اپنے فیصلے میں 18پولس اہلکاروں کو سازش کے تحت رنبیر سنگھ کو اغوا کر کے اس کا قتل کرنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ مقتول طالب ملازمت کیلئے دہرادون جا رہا تھا، جب اس کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا۔ جون 2014میں عدالت نے اپنے فیصلے میں 17پولیس اہلکاروں کو قتل، ثبوت مٹانے اور مجرمانہ سازش کے معاملے میں مجرم ٹھہرایا تھا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں