مخاصمت کے بجائے مفاہمت بہتر

کئی دنوں کی خاموشی کے بعد جموںمیں کنٹرول لائین پر دوبارہ گولیوں کی سنسناہٹ اور گولوں کی گن گرج پھر سے سنائی جانے لگی ہے۔ دفاعی ذرایع نے بتایا کہ پاکستان ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ جموں کے پونچھ، راجوری، نوشہرہ اور شاہ پور سیکٹروں میں حالیہ ایام کے دوران سرحدوںپر زبردست جھڑپیں ہوئیں جن سے جانی نقصان بھی ہوا ہے اور مالی نقصان بھی۔ دونوں طرف کی فوج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرحدوںپرتیاری کی حالت میں ہیں۔ سال 2003کے جنگ بندی معاہدے کا کوئی بھی ملک پاس لحاظ نہیں کرتا ہے حالانکہ ابتدائی برسوں تک سرحدوںپر خاموشی چھائی رہی لیکن بعد میں آہستہ آہستہ پھر سے فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کی پوزیشنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اگر چہ وقفے وقفے سے جاری رہا لیکن بعد میں اس میں تیزی آتی گئی اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وادی کے مقابلے میں جموں میں کنٹرول لائین پر اب آئے روز جھڑپیں ہورہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے حال ہی میں ضلع انتطامیہ راجوری نے 71تعلیمی اداروں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سینکڑوں کنبے ترک سکونت کرگئے ہیں اور جیسا کہ پہلے ہی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ سرحدی علاقوں میں قبرستان جیسی خاموشی ہے کیونکہ وہاں دکانیں ،کاروباری ادارے ،بنک ،دفاتر سب بند پڑے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ایسا ہی کچھ حال سرحد کے اس پار بھی ہے ۔ کل ہی یعنی اتوار کی شام کو نوشہرہ سیکٹر میں سرحد پار سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں چار فوجی لقمہ اجل بن گئے جبکہ کئی زخمی ہوگئے اسی طرح سرحد پار سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نئی دہلی نے متعدد مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر لگایا ہے جبکہ پاکستان بھی بھارت پر اسی طرح کے الزامات عاید کرتا آیا ہے ۔ لیکن عام لوگوں کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون سچ کو چھپارہا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ 26جنوری یوم جمہوریہ پر بھی جوواگہ سرحدپر روائیتی پریڈ ہوئی اس میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تنائو صاف دکھائی دے رہاتھا کیونکہ اس موقعے پرجیسا کہ روایت تھی مٹھایئاں بانٹی جاتی تھیں اور دونوں ملکوں کے فوجی افسر ایک دوسرے کومبارکبادیاں دیتے تھے لیکن اس بار جارحانہ طور پر پریڈ ہوئی اورگیٹ بند کردے گئے۔ کوئی فوجی افسر نظر نہیں آیا۔ اس سے سیاسی مبصرین نے صاف طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ لیکن آج کے دور میں کشیدگی رنجش اور اسی طرح کے دوسرے جذبات کیلئے کوئی گنجایش نہیں۔ اسوقت دونوں ملکوں کے لوگوں کو بھوک افلاس، غربت جہالت اور بیماریوں کا سامنا ہے اگر جنگ و جدل کے بجائے دونوں ملک مل بیٹھ کر لوگوں کی خدمت کرنے میں جٹ جائینگے تو ہر طرف خوشحالی پھیل سکتی ہے بیماریوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوتا لیکن جب دونوں ملک ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار رہینگے تو پورا بر صغیر بھوک و افلاس بیماری اور بے کاری میں مبتلا ہوکر ایک ایسی آگ میں جل جائے گا جس سے اس کا وجود ہی بھسم ہوکر رہ جائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں