سنگبازوں کے بعد نظربندوںپرنظرعنایت

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایوان اسمبلی میں اس بات کا انکشاف کیا کہ ریاستی سرکار نے سنگبازی میں ملوث مزید دس ہزار سنگبازوںکو عام معافی کے دائیرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا کہ ان کو اس سلسلے میں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ پولیس کی طرف سے ان کیخلاف دائیر کیسوں کی ڈائیری بندکردی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے ایوان میں اعداد و شمار بھی پیش کئے کہ کس ضلع میں کتنے سنگبازوں کیخلاف کیس واپس لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نوجوانوں کے مستقبل کو کرنے میں یقین نہیں رکھتی ہے بلکہ ملوث نوجوانوں کو عام معافی کے دائیرے میں لانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کو اپنی زندگی سدھارنے کا موقعہ فراہم کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کونسلنگ ہوگی اور ان کوتعلیم کے میدان میں آگے بڑھ کر اپنا نام روشن کرنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے جہاں خیر مقدم کیا ہے وہاں اب یہ مطالبہ بھی زور پکڑتا جارہا ہے کہ جو کشمیری جیلوں میں سالہاسال سے بند ہیں ان کو بھی رہا کرکے ان کے افراد خانہ کو اس ذہنی عذاب سے نجات دلائی جائے جس میں وہ تب سے مبتلا ہیں جب سے ان کے عزیزوں کو جیلوں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ بعض نظربندوں نے اب تک دس دس بارہ بارہ سالوں کی جیل کاٹی ہے اب ان کو رہاکیاجانا چاہئے ۔ اس مطالبے پر ریاستی حکومت کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گی اس بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اس بیان جس میں اس نے مزید دس ہزار سنگبازوں کو عام معافی کے دائیرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے سے ان کے دلوں میں ایک امید سی پیدا ہوگئی ہے کہ شاید اب کی بار وزیر اعلیٰ ان کے مطالبے پر ہمدردانہ غور کرے گی اوربرسوں سے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ایام اسیری کاٹنے والوں کو رہا کیا جاے گا ۔ مرکزی مذاکرات کار دینشور شرما ایک بار پھر وادی کے دورے پر آرہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے میں ان کا اپروچ مثبت ہوگا کیونکہ اب تک جتنے بھی لوگ ان سے ملاقی ہوئے انہوں نے یہ معاملات ان کے گوش گذار کئے ہونگے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا تو اس کیلئے لازمی ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے عام لوگ یہ سمجھیں کہ ریاستی حکومت واقعی عوامی مفاد میں کام کررہی ہے۔ کیونکہ چاہے سنگ باز ہوں یا سیاسی قیدی ان کی زندگیاں اجیرن بن جاتی ہیں کیونکہ نہ تو وہ سرکاری نوکری کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ پاسپورٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کیلئے سرکا رکی طرف سے دی جانی والی ہر سہولیات یا مراعات کا حصول تقریباًتقریباًناممکن ہوتاہے۔ لیکن اگر ان کیخلاف کیس واپس لئے جاتے ہیں جیسا کہ وزیر اعلیٰ نے ایوان اسمبلی میں کہا کہ سنگبازوں کیخلاف کیس واپس لئے جاینگے تو وہ تمام سرکاری سہولیات اور مراعات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سارے معاملے کو انسانی نقطہ نگاہ سے دیکھا جانا چاہئے نہ کہ سیاسی زاوئے سے ۔ کیونکہ گھر کے کسی فرد کے جیل میں نظر بند ہونے سے گھر کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اوراس کے بچے نہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے۔ اسلئے وزیر اعلیٰ کو اس بارے میں مثبت اقدامات اٹھانے چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں