عارضی ملازمین اور بیروزگاری

 عارضی ملازمین کی مستقلی کے معاملے پر اسمبلی میں اپوزیشن نے زبردست شوروغل مچایا اور کہا کہ ریاستی حکومت نے اس فہرست میں قلمزنی کی اور اس طرح ساٹھ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ امید واروں کی لسٹ تیار کی گئی اور ان کو مستقل کیاجارہا ہے جو بقول ان کے نا قابل بر داشت ہے۔ اپوزیشن نے بتایا کہ اس فہرست میں قلمزنی کرکے غیر مستحق افراد کو چور دروازے سے شامل کیا گیا۔ اس دوران ایوان میں زبردست نعرے بازی کی گئی او راس سارے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔ ایوان میں نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر اور دوسرے ممبراں نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ لسٹ میں قلمزنی کرکے 90برس کے بوڑھوں کو بھی شامل کرکے اسے بقول ان کے مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ۔ جہاں تک اس ریاست میں بیروزگاری کا تعلق ہے تو یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے اس ریاست میں بیروزگاروں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہے اور جن نوجوانوں کو مختلف محکموں میں عارضی بنیادوں پر تعینات کیاگیا ان کی تعداد بھی دو تین لاکھ سے زیادہ ہوگی ۔ اس معاملے پر سیاست نہ کرتے ہوئے ان سب کو مستقل کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ ریاست انتہائی پسماندہ ہے اور حالات نے بھی یہاں کے لوگوں کو بیروز گاری کی لپیٹ میں لیا ہے ۔ سیاحتی سیزن سال 1990سے ہی ٹھپ ہے۔ جو کہ یہاں کی اقتصادیات کیلئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس صنعت سے وابستہ لوگ چاہے ہوٹل مالکان ہوں، ہاوس بوٹ اونرس ہوں یا ٹرانسپورٹر ہوں یاتاجر سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ خاص طور پر سال 2014جب وادی کو قہر انگیز سیلاب نے تباہ کرکے رکھ دیا سے اب تک بہت کم دس پندرہ فیصد سے بھی کم سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا ہے ۔ اب ان حالات میں بیروز گاری نہیں بڑھے گی تو اور کیا ہوگا ۔ چنانچہ وقت وقت پر ریاستی حکومت نے مختلف محکموں میں عارضی ملازمین کی تقرری عمل میں لائی لیکن اب جبکہ حکومت نے ان کو مستقل بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس بارے میں شک و شبہات کا اظہار کیاجارہا ہے اور حکومت پر فراڈ لسٹ مشتہر کرنے کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں۔ بہرحال ا س معاملے میں غیر مستحق افراد کو لسٹ میں جہاں شامل کرنے سے احتراز کیاجانا چاہئے وہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ لسٹ میں زیادہ سے زیادہ عارضی ملازمین کو شامل کیاجائے تاکہ ان کا مستقبل بھی تاریک ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس وقت صورتحال ایسی ہے اور جیسا کہ ان ہی کالموں میں پہلے ہی لکھا جاچکا ہے کہ ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان عمر کی ان حدود کو چھونے والے ہیں جو حصول روزگار کیلئے آخری حد مقرر کردی گئی ہے ۔ اسلئے اگر ایسے عارضی ملازمین کو بھی لسٹ میں شامل کیا جائے گا تو اس میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس ریاست میں پرائیویٹ سیکٹر میں حصول روزگار کے امکانات صفر کے برابر ہیں ۔ جبکہ یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے صرف اور صرف روزگار کا واحد ذریعہ سرکاری نوکریاں ہی ہیں۔ اسلئے جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ اس معاملے میں سیاست کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ مستحق امیدواروں کو شامل کرکے ان کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے ۔ اور اس عمل کو انسانیت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں