عارضی ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ,

,

عارضی ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ ان ملازمین کے علاوہ ان کے افراد خانہ کیلئے پریشانیوں کا باعث بنتا جارہا ہے کیونکہ ہر روز اس بارے میں نت نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک لسٹ اپ لوڈ کی گئی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ یہ لسٹ ان عارضی ملازمین کی تھی جن کو مستقل کیاگیا اس لسٹ کو دیکھ کر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن دوسرے ہی دن وزیر خزانہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو لسٹ اپ لوڈ کی گئی ہے وہ جعلی ہے اور جس کا اس لسٹ سے کوئی تعلق نہیں جو سرکاری سطح پر بہت جلد شایع کی جائے گی اور اسی لسٹ میں ان عارضی ملازمین کے نام پتے اور محکمے شامل ہونگے جن کو مستقل کیاجائے گا۔ پھر سوشل میڈیا پر جو لسٹ اپ لوڈ کی گئی تھی وہ کیا تھی اور کس نے اپ لوڈ کی تھی یہ معمہ اب تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ اس کے بعد کل ہی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ فہرست میں جن غیر مستحق عارضی ملازمین کو شامل کیاگیا تھا ان کو نکال باہر کیا جائے گا۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کوئی لسٹ بنائی گئی تھی لیکن اس کی ابھی تک توثیق نہیں کی جاسکی۔ ادھر مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجر وغیرہ ابھی بھی تذبذب کے عالم میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ نہیں پائے ہیں کہ کن کن کو مستقل کیاجائے گا کیونکہ حکومت نے ان کو کئی زمروں میں تقسیم کررکھا ہے۔ ہنر مند اور غیر ہنر مند ۔پانچ برس، دس بر س اور پندرہ برس، اس بارے میں حکومت کو ایک واضح پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔ کیونکہ زمروں میں بانٹنے سے عارضی ملازمین انتشار میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ مختلف محکموں میں افراد قوت کی کمی ہے اسلئے ان محکموں میں جتنے بھی عارضی ملازمین ہیں ان کو بیک وقت مستقل کیاجانا چاہئے تاکہ اس وقت جو انتشار ی کیفیت پائی جاتی ہے وہ باقی نہ رہے اور حکومت کو بھی کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس وقت بیروزگاری نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کشمیر میں ہی لاکھوں پڑے لکھے نوجوان بیروز گار ہیں ان میں سے بیشتر عمر کی ان حدود کو پار کرنے والے ہیں جو حصول روزگار کیلئے مقرر کی گئی ہے۔ یعنی سرکار نے چالیس سال کی عمر تک نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کا حقدار قرار دیا ہے اس طرح کئی لاکھ نوجوان ایسے ہیں جو 38یا 39برس کے ہوچکے ہیں اگر ان کو فوری طور سرکاری نوکری فراہم نہیں کی جائے گی تو ان کا مستقبل تاریک بن جائے گا۔ اس پر مصیبت یہ ہے کہ ایس آر او 520کو بھی ان پر لاگو کیاجا رہا ہے جس کے نتیجے میں ان کوبہت کم ماہانہ تنخواہ ملے گی اور ریٹائیرمنٹ تک ان کو کم قلیل مراعات مل سکتی ہیں۔ اسلئے ریاستی حکومت کو اس سارے معاملے کا از سر نوجائیزہ لیناچاہئے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور زیادہ سے زیادہ عارضی ملازمین مستقل کئے جاسکیں۔ اسلئے اگر حتمی فہرست بنانے میں مزید وقت لگے گا تو اسبارے میں حکومت کو جلد بازی سے نہیں بلکہ صبر و تحمل سے کا م لینا چاہئے ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں