پنچائتی انتخابات اور مرکزی گرانٹس

دیہی ترقی اور پنچائیتی راج کے وزیر حق خان نے اس بات کااعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے اگلے مہینے سے پنچائیتی انتخابات عمل میں لانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں اقدامات شروع کئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ یہ انتخابات نا ن پارٹی بنیادوں پر کروائے جاینگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی امیدوار اس میں کھڑا ہوگا وہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار تصور نہیں کیا جائے گا خواہ اس کا تعلق کسی پارٹی سے ہو یا نہ ہو۔ سال 2005میں جو پنچایتی انتخابات کروائے گئے وہ بھی نان پارٹی بنیادوں پر ہی کروائے گئے تھے لیکن تب سے آج تک پنچائیتی یا بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے شاید اسلئے کہ وادی میں کبھی بھی ان انتخابات کیلئے حالات موزوں نہیں رہے اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی مسئلہ ان انتخابات کے آڑے آتا رہا جس کی بنا پر ان انتخابات کو بار بار ملتوی کیا جاتارہا۔ لیکن اس سے ریاست کا زبردست نقصان ہوا ہے کیونکہ مرکزی فائینانس کمیشن نے ریاست کو مرکز کی طرف سے مقررہ کردہ گرانٹس فراہم نہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ گرانٹس منتخب پنچائیتوں کے نا م ہی واگذار کئے جاتے ہیں اور جب یہاں پیچائیتیں ہی نہیں تھیں تو مرکز ی گرانٹس کس طرح واگذار کی جاتیں لیکن اب جبکہ ریاستی حکومت نے اس بات کافیصلہ کیا ہے کہ پنچائیتی انتخابات کروائے جاینگے تو اس سے یہ امید پیدا ہوجائے گی کہ اب مرکز کی طرفسے ریاست کوگرانٹس فراہم ہونگے جس سے تعمیر وترقی کا نیا دور شروع ہوگا اور وادی کے دیہات کی حالت میں سدھار آئے گا۔ پنچایت ایک چھوٹی پارلیمنٹ کی طرح ہوتا ہے جس کی موجودگی سے نہ صرف لوگوں کی مشکلات کا فوری ازالہ ممکن ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کو درپیش مسایل و مشکلات کو حل کرنے کیلئے ممبران ان کی دہلیز پر آنے کے پابند ہوتے ہیں اور لوگوں کو معمولی مسایل حل کروانے کیلئے ضلع صدر مقامات پر آکر افسروں کی چوکھٹ پر آنے کی ضرورت قطعی نہیں ہوگی۔ جس طرح ریاستی حکومت نے ان بنیادی اداروں کیلئے انتخابات کااعلان کیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس بارے میں سنجیدہ ہے اور وہ انتخابات کرواکے ہی رہے گی لیکن حالات پر بھی کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ کس کروٹ بیٹھیں گے۔ جس طرح موسم کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا ہے کہ کب کیا رنگ بدلے گا اسی طرح کشمیر کے حالات کے بارے میں کوئی بھی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ گذشتہ دنوں سے سرحدوں پر جو شدید گولی باری ہورہی ہے اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان پھر سے تعلقات میں تلخی آنے لگی ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کی بنا پر جموں کے بیشتر سرحدی گائوں میں رہنے والے لوگ ترک سکونت کرگئے ہیں۔ اور کنٹرول لاین اور بین الاقوامی سرحد پر مزید کمک پہنچادی گئی ہے۔ سانبہ، ہیرانگر، راجوری، پونچھ اور نوشہرہ سیکٹروں میں تو حالات ہر روز بہتر ہونے کے بجائے بگڑ رہے ہیںاس کو مدنظر رکھ کر یہ کہنا مشکل ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں