سیریز میرے اور ڈیولیرس کے درمیان کا ہی مقابلہ نہیں:وراٹ

کیپ ٹاؤن/ ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے اپنے ساتھی اے بی ڈیولیرس کے کھیل کا احترام کرتے ہیں لیکن اس سیریز کیلئے ان کے اور ڈی ولیرس کے درمیان مقابلے کے طور پر ہی دیکھنا غلط ہو گا۔وراٹ اور ڈی ولیرس دونوں ہی اپنی اپنی ٹیموں کے اسٹار کھلاڑی ہیں۔دونوں کھلاڑی آئی پی ایل میں رائیل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے کھیلتے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں میدان کے باہر بھی ایک اچھے دوست ہیں۔ہندستان کو جنوبی افریقہ کے دورے میں تین ٹیسٹ، چھ ون ڈے اور تین ٹوئنٹی 20 میچوں کی سیریز کھیلنی ہے اور دو ماہ کے اس طویل غیر ملکی دورے سے پہلے اس کی کوئی تیاری نہیں ہے ۔ پہلا ٹیسٹ میچ پانچ جنوری سے یہاں شروع ہونا ہے ۔وراٹ نے جنوبی افریقہ کے دورے کی اپنے پہلے پریس کانفرنس میں کہاکہ اے بی میرے اچھے دوست ہیں۔میں ان کے کھیل کے طریقوں کی عزت کرتا ہوں اور ایک اچھے انسان کے طور پر بھی میں ان کا احترام کرتا ہوں۔جب ہم ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں تو مخاصمت کو لے کر حد پار نہیں کرتے ۔لیکن ہم ان کا وکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ مخالف ٹیم بھی ایسا ہی سوچتی ہوگی۔وہ بھی رہانے اور پجارا کوجلد آؤٹ کرنا چاہے گی۔ہندستانی ٹیم جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد سال 1992۔93میں وہاں کا دورہ کرنے والی پہلی ٹیم تھی اور تب اس نے چار میچوں کی سیریز 0۔1سے گنوائی تھی۔اس کے بعد سے ہندوستان نے جنوبی افریقہ میں ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی ہے ۔کپتان نے کہا، ’’ہر کوئی اس سیریز میں اپنا شاندار مظاہرہ کرنا چاہتا اور سیریز جیتنے کیلئے ٹیم میں اپنا تعاون دینا چاہتا ہے ۔ لیکن جب تک آپ متحد ہوکر نہیں کھیلیں گے ۔ آپ کے پاس سیریز جیتنے کا زیادہ موقع نہیں رہے گا۔اس وقت تمام کھلاڑی اچھی کارکردگی کرنے کیلئے بیتاب ہیں اور ہر کوئی اس موقع پر اپنا بہترین مظاہرہ کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں حریف ٹیم کیلئے کچھ نہیں کہنا چاہوں گا۔خاص طور پر اے بی کیلئے کیونکہ وہ طویل عرصے بعد میدان پر واپسی کر رہے ہیں۔ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ موجودہ ٹیم ایک متوازن ٹیم ہے اور وہ جنوبی افریقہ میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیت کر گزشتہ 25 سال سے جاری سریز جیتنے کی خشک سالی کوختم کرنے کے مقصد کے ساتھ اترے گی ۔دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کے کپتان وراٹ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ یہاں ہماری بہترین کارکردگی سال11۔ 2010 میں رہی تھی جب ہم نے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے ڈرا کھیلی تھی۔لیکن میرا خیال ہے کہ اس مرتبہ ہماری گیندبازی اچھی ہے اور ایک متوازن ٹیم ہے ، اس سے ہم یہاں ضرور جیت سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔کپتان وراٹ کوہلی نے ساتھ ہی کہاکہ ہم یہاں خود کو ثابت کرنے کیلئے آئے ہیں۔ہمیں اپنی صلاحیت پر مکمل اعتماد ہے اورہمارے پاس متوازن ٹیم ہے جو کسی بھی حالات میں ٹیسٹ میچ جیت سکتی ہے ۔ہندستان نے جنوبی افریقہ میں سال ۷۹۔۶۹۹۱میں تین میچوں کی سیریز میں پھر صفر۔ دو سے شکست کا سامنا کیا تھا ۔ ٹیم سال ۲۰۔۱۰۰۲ میں وہ دو میچوں کی سیریز میں صفر۔ایک سے ، ۷۰۔۶۰۰۲ میں تین میچوں کی سیریز میں ایک۔دو سے ہار گئی تھی ۔ٹیم انڈیا نے سال ۱۱۔۰۱۰۲ میں تین میچوں کی سیریز میں 1۔1 سے ڈرا کھیلا جبکہ سال ۴۱۔۳۱۰۲ میں جنوبی افریقہ کے اپنے آخری دورے میں ہندستانی ٹیم کو دو میچوں کی سیریز میں صفر۔ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں