تعمیراتی کاموں کا بائیکاٹ اور سیاحت کیخلاف منفی پروپگنڈہ

گذشتہ دنوں وادی کے ٹھیکیداروں کی انجمن سنٹرل کارڈنیشن کمیٹی نے اس بات کا واشگاف طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی واجب الادا رقومات کی فوری ادائیگی نہیں کی گئی تو وہ 22جنوری سے تمام ترقیاتی کاموں اور ٹینڈروں کا بائیکاٹ کرینگے۔ اس کمیٹی کے زعما ئ کا دعویٰ ہے کہ ٹھیکیداروں کے 250کروڑ روپے سرکار کے پاس واجب الادا ہیں اور انہوں نے ان کی فوری ادائیگی کی اپیل کی ہے اور کہا کہ حکومت سرکاری خزانے کو آن لائین کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اس سے پہلے ہی ان کے بقایا جات کی ادائیگی ہونی چاہئے۔ ٹھیکیداروں کے اس دعوے پر ریاستی حکومت خاموش ہے اور اس پر ابھی تک کسی بھی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کیاجارہا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ سال 2014میں سیلاب سے جو تباہی مچ گئی اس وقت ٹھیکیداروں کو ہنگامی طور پر سرکاری کوٹھیوں، بنگلوں، سرکاری عمارتوں یعنی دفاتر وغیرہ کی تعمیر و تجدید کرنے پر دبائو ڈالا گیا اور انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرکے ان کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے تعمیر نو پروگرام کے تحت بھی بہت سے کام کئے گئے ان کاموں کے مد میں سے بھی 35کروڑ گذشتہ تین برسوں سے واجب الادا ہیں۔ لیکن وہ بھی واگذار نہیں کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات پتے کی بتائی کہ پہلے ہی ریاست کی سیاحت کو ایک منصوبے کے تحت منفی پروپاگنڈے سے ختم کیاگیا اور اب ٹھیکیداروں کو بھی اپنا کام بند کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ جہاں تک ٹھیکیداروں کا تعلق ہے تو اگر ان کے دعوئوں میں سچائی ہے تو جب تک ان کی واجب الادا رقومات واگذار نہیں کی جائیںگی تو وہ آگے کس طرح کام کرسکیںگے کیونکہ وہ بھی کاریگروں کے قرضدار ہیں اسلئے ریاستی حکومت کو اس بارے میں فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک منصوبے کے تحت کشمیر کی سیاحت کیخلاف منفی پروپاگنڈا کیاجارہا ہے۔ جس سے یہاں کا سیاحتی سیکٹر زبردست بحران کا شکار ہے۔ وادی کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے اور جب سیاحت کیخلاف دلی کا ایک مخصوص الیکٹرانک میڈیا منفی پروپا گنڈا چلائے گا تو اس سے یقینی طور پر ٹورسٹ انڈسٹری بری طرح متاثر ہوگی۔ اس وقت نوے فی صد ہوٹل، گیسٹ ہاوس اور ہاوس بوٹ خالی پڑے ہیں۔ جن لوگوں نے ہوٹلوں، گیسٹ ہاوسز اور ہاوس بوٹوں اور ٹیکسیوں کیلئے بنکوں سے قرضہ جات لئے ہیں ان کیلئے اب ماہانہ قسطیں ادا کرنا بھی محال بن رہا ہے اور دوسری جانب اس پر سود کی رقم میں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگ ایک پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اس پر طرہ یہ کہ ٹھیکیداروں نے بھی سرکاری کاموں کے بائیکاٹ کا اعلان کیاہے گویا یک نہ شد دو شد کے مصداق نہ تو سیاح آینگے اور نہ ہی ٹھیکیدار سرکاری کام کرینگے اس سے ریاست میں تعمیر وترقی کا سلسلہ متاثر ہوگا اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت سیاحت کیخلاف پروپاگنڈا پر روک لگانے اور ٹھیکیداروں کے جایز مطالبات حل کروانے کیلئے اقدامات کرے۔ کیونکہ ٹورسٹ انڈسڑی سال 2016سے ہی بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور سال 2017میں بھی بہت کم ایک یا دو فی صد سیاح ہی وادی کی سیاحت پر آگئے اگر اس سال بھی ایسے ہی حالات رہے تو ریاست کو نا قابل تلافی نقصان سے دوچار ہوناپڑسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں