ڈاکٹر اور محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت شعاری

 اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شایع کی گئی ہے کہ آج کل سرکاری ہسپتالوں میں بحرانی کیفیت پائی جاتی ہے کیونکہ ماہر،سینئراور بڑے ڈاکٹر سرمائی چھٹیاں منانے کیلئے یا تو بیرون ریاست گئے ہیں یا بیرون ملک جس کی بنا پر بیمار جونیئر اور ناتجربہ کار ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہیں کیونکہ کسی بھی ہسپتال میں اس وقت بڑے ڈاکٹر نہیں جبکہ سوائین فلو نے 22افراد کی جان لی ہے اور مزید کئی افراد صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں نازک حالات میں پڑے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ، صدر ہسپتال، لل دید ہسپتال، بون اینڈ جوائینٹس ہسپتال، بچہ ہسپتال اور دوسرے سرکاری ہسپتال اس وقت بڑے اور مختلف فیکلٹیوں کے سربراہوں کے بغیر ہیں اور ان ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج جونیئر ڈاکٹر س کررہے ہیں۔ اگرچہ وہ ناقابل نہیں لیکن ان میں تجربے کی کمی ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ مریضوں کا اچھی طرح سے علاج وغیرہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اور تو اور ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر نثار الحسن نے از خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بڑے ڈاکٹر چھٹیوں پر چلے گئے ہیں جس کی بنا پر ہسپتالوں میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ نازک مریض اس وقت شدید عذاب میں مبتلا ہیں۔ اگر اس سارے معاملے کا بغور جائیزہ لیاجائے گا تو یہ بات سچ ہے کہ ایک ڈاکٹر بھی انسان ہی ہوتا ہے جس کو اپنے والدین اور بیوی بچوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ وہ بھی گوشت پوست کا بنا ہوا ہوتا ہے اور اس کے حقوق ہیں لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اس نے جس پیشے کو منتخب کیا ہے وہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے جس کے ساتھ انسانی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں اگر کوئی حادثہ رونما ہوجائے گا اور کسی کو خون میں لت پت ہسپتال لایا جائے گا جہاں اسے فوری اوپریشن کی ضرورت ہوگی اور ان حالات میں ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوگا تو کیا زخمی ہونے والے کو یہ بتایا جائے گا کہ وہ کچھ دن تک انتظار کرنے کے بعد ہسپتال کا رخ کرے تب تک ڈاکٹر بھی آئے گا ۔ غرض یہ ایک ایسا پیشہ ہے جہاں ڈاکٹر کو عام ملازم سے بہت زیادہ اپنے فرایض کا احساس کرنا ہوتا ہے ۔ اگرڈاکٹر کویہ محسوس ہوجائے کہ سرکاری نوکری کرنے سے اس کی آزادی میں خلل پڑتا ہے یا وہ زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا ہے تو اسے فوری طور سرکاری نوکری سے مستعفی ہوکر چلے جانا چاہئے ۔اگر اس وقت دیکھا جائے گا تو صرف سرکاری ہسپتالوں میں ہی بحرانی کیفیت ہے جو ڈاکٹر چھٹیوں پر چلے گئے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض باہر گئے ہونگے لیکن اکثر اس وقت پرائیویٹ ہسپتالوں یا کلنکوں پر باضابط حاضر رہ کر علاج معالجے کے عوض بھاری رقومات بطور فیس لیتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے اس طرح سے چلے جانے پر محکمہ صحت روک لگا سکتا تھا لیکن یہ محکمہ اس قدر مجرمانہ غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے اس کا وجود نہیں نہ ہو۔ ڈاکٹروں کی من مانیوں کیلئے یہی محکمہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس محکمے کے حکام ڈاکٹروں کے تئیں ہمیشہ نر م گوشہ اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کسی بھی ڈاکٹر کو دو چار دنوں سے زیادہ چھٹی نہیں دی جانی چاہئے تھی۔ اس وقت سوائین فلو تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن کسی بھی جگہ ویکسین دستیاب نہیں ہے یہ اسی محکمے کی کارستانی ہے اسلئے اس سارے محکمے کی از سر نو اوور ہالنگ کی جانی چاہئے اور ذمہ دار عملے کی تقرری عمل میں لائی جانی چاہئے۔ اسکے ساتھ ہی جو ڈاکٹر چھٹیوں پر گئے ہیں ان کو فوری طور واپس بلانا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں