ہندوپاک سرحدی کشیدگی امن کیلئے خطرہ

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر سفارتی سطح پر تنائو اور کشیدگی بڑھتی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے راجوری اور پونچھ سیکٹر میں دونوں ملکوں کی فوج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اندھا دھند گولہ باری کررہی ہیں۔ جس سے جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فریقین کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ چنانچہ ایک بار پھر بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سنگین الزامات عاید کئے ہیں۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کون بول رہا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ سرحدوں پرجھڑپوں کے بارے میں جو بھی اطلاعات موصول ہوتی ہیں وہ دفاعی ذرایع کے توسط سے میڈیا تک پہنچتی ہیں اور جو کچھ ان ذرایع کی طرف سے اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں ان کو من عن اخبار کی زینت بنایا جارہا ہے۔ اور گذشتہ دنوں راجوری اور پونچھ سیکٹر میں ہوئی گولی باری سے اب تک سات فوجی از جان ہوئے ہیں جن میں تین پاکستانی اور چار بھارتی سپاہی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اپنے گھر و بار اور مال مویشیوں کو چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کیلئے محفوظ مقامات پر جانا پڑا۔ اس سے نہ صرف ان کو زبردست مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہوگئے اور وہ خود بھی کام کاج سے گئے ۔ اس طرح ان کی روزی روٹی پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔ اس وقت بہت سے کنبوں کو سکول عمارتوں میںٹھہرایا گیا ہے اور کئی اپنے دوست احباب کے پاس بود و باش اختیار کرنے لگے ۔ اس دوران کل جموں کے ہی نوشہرہ سیکٹر میں دفاعی ذرایع کے مطابق پاکستان نے ہلکے اور بڑے ہتھیاروں سے بھارتی پوزیشنوںپر زبردست گولی باری کی اور یہ سلسلہ قریباًایک گھنٹے تک جاری رہا جس پر بھارت نے ایک بار پھر اسلام آباد سے احتجاج کیا اور اسے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں سے تعبیر کیاجارہا ہے ۔ جبکہ دوسری اور پاکستان بھی یہی کہتا ہے کہ بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔ غرض اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں بڑھتی جارہی ہیں اور دو ہمسایہ ملک ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملک آپسی تنازعات اور دوسرے ایسے معاملات جن سے دونوں ملک ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں آپسی بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔ان دونوں ملکوں کے درمیان کوئی ایک مسئلہ ہو تو حل کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے درمیان سینکڑوں مسایل ہیں جو صرف باہمی بات چیت کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔ اگر چہ کبھی کبھار ٹریک ٹو سطح پر بھی بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن اس وقت ایسا بھی نہیں ہورہا ہے۔ دونوں ملکوں کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ موجودہ پرتشویش صورتحال کو مدنظر رکھ کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ وہ تمام مسایل کاحل تلاش کرنے کیلئے باہمی مذاکرات کا راستہ اپنائینگے ۔ دونوں ملکوں کو فوری طور اس پر تجویز پر عمل کرنا چاہئے تاکہ برصغیر میں پائیدار امن قایم ہوسکے اور دونوں ایک ایسے سمجھوتے پرمتفق ہوسکیں جہاں آپسی چپقلش کا کہیں نام و نشان نہ ہو ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں