سعودی عرب میں ایک کھرب ڈالر کی خردبرد کا انکشاف - انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا: اٹارنی جنرل

ریاض/ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔ شیخ سعود المجیب نے کہا کہ ہفتے کی رات کو شروع ہونے والی انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔انہوںنے ان افراد میں سے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں شہزادے، وزرا اور بااثر کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاری کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے سعودی عرب کے اچانک دورے کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنان میں استحکام کی اہمیت پر زور دیں گے۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ سعد حریری نے سعودی دباؤ میں استعفیٰ دیا۔ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے انسدادِ بدعنوانی مہم کے حوالے سے کہا ہے کہ اس غلط کاری کے شواہد بہت مضبوط ہیں۔ انہوںنے زور دے کر کہا کہ اس پکڑ دھکڑ سے سعودی عرب میں عام مالیاتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی اور صرف ذاتی اکاؤنٹ ہی منجمد کیے گئے ہیں۔ شیخ سعود المجیب نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کمیٹی، جس کے سربراہ 32سالہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، بہت تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ اب تک 208افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیا، اور ان میں سے سات کو بغیر موردِ الزام ٹھہرائے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدعنوان سرگرمیوں کا ممکنہ درجہ بہت بلند ہے۔ پچھلے تین سال میں ہونے والی تحقیقات سے ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ کئی عشروں کے دوران وسیع بدعنوانی اور خردبرد سے ایک کھرب ڈالر مالیت کی رقم کا غلط استعمال ہوا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں